کمشنر ساہیوال علی بہادر قاضی کی کسان اتحاد کے نمائندہ وفد سے ملاقات

You are currently viewing کمشنر ساہیوال علی بہادر قاضی کی کسان اتحاد کے نمائندہ وفد سے ملاقات

ساہیوال :کمشنر ساہیوال ڈویژن علی بہادر قاضی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کسانوں کو یوریا کھاد کی بروقت فراہمی کے لئے تمام ضروری انتظامی اقدامات اٹھا رہی ہے جس میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی اور کھاد کی شفاف فروخت شامل ہے۔ ڈویژن کے تینوں اضلاع کی انتظامیہ نے کسانوں کے نمائندوں کے ساتھ مل کر کھاد کی کمی دور کرنے اور اس کی بروقت کسان تک فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے مثبت ثمرات سامنے آر ہے ہیں اور کہیں سے بھی کھاد کی کمی کی شکایت موصول نہین ہو رہی۔ انہوں نے یہ بات اپنے دفتر میں پاکستان کسان اتحاد کے نمائندہ وفد سے ایک خصوصی ملاقات میں کہی جس کی قیادت صوبائی صدر رضوان اقبال اور مرکزی جنرل سیکرٹری چوہدری حسان اکرم کر رہے تھے۔ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوارڈینیشن شفیق احمد ڈوگر، ڈائریکٹر زراعت شاہد حسین اور ڈپٹی ڈائریکٹر رانا حبیب الرحمن نے بھی شرکت کی۔ کمشنر نے کسان نمائندوں کی شکایات کو غور سے سنا اور اجلاس کے دوران ہی ڈپٹی کمشنرز کو فون کر کے کھاد کی دستیابی میں حائل مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔ پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی جنرل سیکرٹری چوہدری حسان اکرم نے تحصیل دیپالپور میں انتظامیہ کی طرف سے قبضہ کی گئی کھاد کی غیر منصفانہ تقسیم اور صوبائی صدر رضوان اقبال نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت عارف والا محمد لطیف کے جانبدار رویے کی شکایت کی جس پر کمشنر علی بہادر قاضی نے مذکورہ آفیسر کو سرینڈر کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ ساہیوال ڈویژن میں گند م اور آلو کی کاشت جاری ہے جس کے لئے یوریا کھاد کی دستیابی یقینی بنانا ممکن بنایا جا رہا ہے تاکہ ان دونوں اجناس کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کسانوں کی کھادکی دستیابی سے متعلق شکایات کی فوری داد رسی کے لئے ڈویژن کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کے دفاتر میں شکایات سیل قائم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ شکایت سیل کے نمبروں کو نمایاں جگہوں پر ڈسپلے کیا جائے۔ اجلاس میں ڈائریکٹر زراعت شاہد حسین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 13نومبر سے اب تک کھادکی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے 1022انسپکشنز کی گئی ہیں جن میں 35مقدمات درج کروا کر 2افراد کو گرفتار کیا گیا اور 42جگہوں کو سیل کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس عرصہ کے دوران 18لاکھ86ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا جن میں 9لاکھ85ہزار روپے ضلع ساہیوال، 5لاکھ8ہزار روپے ضلع اوکاڑہ اور 3لاکھ93ہزار روپے ضلع پاک پتن میں کیے گئے۔ کمشنر علی بہادر قاضی نے جرمانوں کے ساتھ ساتھ مقدمات درج کرنے اور بڑے ڈیلروں کی مسلسل چیکنگ کی ہدایت کی تاکہ مارکیٹ میں کھاد کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

This Post Has 2 Comments

Leave a Reply