ابتداء ھے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو کل کائناتوں کا اکیلا مالک ہے۔ اور اربوں کھربوں دارود و سلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر اور آپ کی آل پر          

مادر ملت کا 52یوم وفات

مادر ملت کا 52یوم وفات

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا 52واں یوم وفات نہایت عقیدت و احترام سے آج منایا جارہا ہے

مادر ملت 31جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، بچپن میں ہی ماں باپ کی شفقت سے محروم ہوگئیں، بڑے بھائی قائد اعظم محمد علی نے فاطمہ جناح کو ابتدائی تعلیم کے لیے ہائی اسکول کھنڈالہ میں داخل کرادیا۔

1910ء میں میٹرک اور 1913ء میں سینئر کیمرج کا امتحان پرائیویٹ طالبہ کی حیثیت سے پاس کرنے کے بعد1922ء میں ڈینٹسٹ کی تعلیم مکمل کی اور اگلے ہی سال بمبئی میں ڈینٹل کلینک کھول کر پریکٹس شروع کردی، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گھریلو اور سیاسی زندگی میں قائد اعظم محمد علی کا ساتھ دینا شروع کردیا۔

قائداعظم کا ساتھ دیتے ہوئے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم کا ساتھ دیا اور انہی کی بدولت برصغیر کے گلی کوچوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تحریک میں سرگرم ہوئیں۔ 1940ء میں اس تاریخی اجلاس میں شرکت کی جس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔

7 اگست 1947 کو محترمہ فاطمہ جناح 56 سال کے بعد دہلی کو الوداع کہہ کر کراچی منتقل ہو گئیں اور قائداعظم کی وفات کے بعد کئی برسوں تک بھائی کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔
25 دسمبر 1955 کو محترمہ فاطمہ جناح نے خاتون پاکستان کے نام سے کراچی میں اسکول کھولا، اس اسکول کے لئے حکومت کی جانب سے تقریباً 13 ایکڑ زمین دی گئی۔ 1962 میں اس اسکول کو کالج کا درجہ دیا گیا۔
محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان میں لازوال کردار ادا کرتے ہوئے برصغیر کی مسلم خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔
محترمہ فاطمہ جناح کی بدولت برصغیر کی خواتین بھی تحریک پاکستان میں شامل ہوئیں۔
قیام پاکستان کے لیے انتھک کوششوں پر قوم نے انہیں مادر ملت کا خطاب دیا۔
9جولائی 1967 کو 76سال کی عمر میں ایک عظیم بھائی کی عظیم بہن کا انتقال ہوگیا اور انہیں کراچی میں سپرد خاک کیا گیا تھا

Leave a Reply

Close Menu