ابتداء ھے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو کل کائناتوں کا اکیلا مالک ہے۔ اور اربوں کھربوں دارود و سلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر اور آپ کی آل پر          

کرتارپور راہداری کا افتتاح

کرتارپور راہداری کا افتتاح

وزیراعظم عمران خان نے باباگرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا۔

کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر مذہبی امور پیرنور الحق قادری، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار بخاری بھی موجود ہیں۔

علاوہ ازیں افتتاحی تقریب میں گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور معروف کاروباری شخصیت انیل مسرت بھی شریک ہیں.

کرتارپور آمد پر وزیراعظم عمران خان نے ٹرمینل ون اور امیگریشن کاؤنٹرز کا دورہ کیا اور یاتریوں کے لیے چلائی جانے والی شٹل سروس سے گورداوارہ پہنچے، جہاں انہوں نے گوردوارے کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔

امیگریشن کاؤنٹرز پہنچنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے یاتری کے طور پر پاکستان آنے والے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سے ملاقات کی، مصافحہ کیا اور ان سے خیریت بھی دریافت کی۔

بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شریک سابق بھارتی کرکٹر اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو سے بھی ملاقات کی۔

وزیراعظم عمران خان نے بابا گرونانک کے550ویں جنم دن کی تقریبات کے آغاز پر گوردوارے میں داخل ہوتے وقت سکھ مذہب کے احترام کے تحت سر بھی ڈھانپا۔

کرتار پور راہداری کھل سکتی ہے تو ایل او سی کی حدبندی بھی ختم ہوسکتی ہے، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرتارپور کے دروازے دنیا بھر کے سکھ یاتروں کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ایک نئی تاریخ رقم ہونےجارہی ہے، بابا گرونانک کا ایک واضح پیغام تھا اور وہ پیغام امن تھا، بابا گرونانک کا پیغام امن کا پیغام تھا انہوں نے محبت کے بیج بوئے لیکن آج آپ نے دیکھنا ہے کہ برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم اور سکھ برادری اس فیصلے کو پھیلارہی ہے، باباگرونانک کا امن کا پیغام صوفیا، اولیا، داتا گنج بخش کا پیغام ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام بھی امن، بھائی چارے اور محبت کا پیغام دیتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے ایک سال قبل بھارتیوں سے کیا گیا وعدہ پورا کردیا۔

انہوں نے کہا کہ 72 برس ہوگئے مقبوضہ کشمیر انصاف کے منتظر ہیں، ایک وعدہ ہم نے پورا کیا ایک آپ کریں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا والو! آپ کے سامنے برلن کی دیوار گر سکتی ہے اور یورپ کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہےاور آج وہ دن ہے 9نومبر جب برلن کی دیوار گرہی، اگر کرتار پور راہداری کھل سکتی ہے تو لائن آف کنٹرول کی عارضی حدبندی بھی ختم ہوسکتی ہے اور خق خودارادیت کا وعدہ پورا کیا جا سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ جس طرح آج یہ گوردوارہ سکھ برادری کے لیے کھولا گیا وزیراعظم نریندر مودی سری نگر کی جامع مسجد کشمیری مسلمانوں کے لیے کھول دی جائے تاکہ وہ وہاں جمعہ کی نماز ادا کرسکیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آؤ مل کر ایک نئی طلوع کا آغاز کریں، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سرحد کے اس پار تقریر کی اور وزیراعظم عمران خان کو مبارک باد اور شکریہ ادا کیا کہ آپ نے بھارت کے عوام کے جذبات کا احترام کیا ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نریندر مودی آپ وزیراعظم عمران خان کو شکریے کا موقع دے سکتے ہیں، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھا کر، پیلیٹ گنز کا استعمال ختم کرکے، مواصلاتی بلیک آؤٹ ختم کرکے ایسا کرسکتے ہیں۔

کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تاریخ رقم دی۔

نوجوت سنگھ سدھو نے شاعری کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا۔

سابق بھارتی کرکٹر نے کہا کہ عمران خان نے دنیا بھر کے 14 کروڑ سکھوں کے دل جیت لیے،سکندر اعظم نے اپنی طاقت سے دنیا فتح کی،عمران خان آپ لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔

سابق بھارتی کرکٹر نے عمران خان نے دنیا بھر کے سکھوں کے دل جیت لیے، عمران خان نے سکھ برادری پر جو احسان کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔

نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ کچھ عمران خان جیسے لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ بنایا کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تقسیم ہندکےبعدپہلی بارپاکستان بھارت سرحد کی رکاوٹیں ختم ہوئیں۔

نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ اگر مسائل جپھی سے حل ہوسکتے ہیں تو سرحدوں پر خون خرابے کی ضرورت نہیں ہے۔

بھارتی آکال تخت کے سربراہ گیانی ہرپریت سنگھ کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر بھارت دروازہ نہ کھولتا تو ہم یہاں نہیں آسکتے تھے اور اگر پاکستان دروازہ نہ کھولتا تو ہم اندر نہیں آسکتے تھے۔

کرتارپور راہداری کے ذریعے یاتریوں کی آمد
قبل ازیں پاکستان کی خصوصی دعوت پر بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کرتارپور راہداری کے ذریعے شرکت کے لیے پہنچے۔

سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کرتارپور راہدرای کے ذریعے پاکستان آنے والے پہلے جتھے کی قیادت کی۔

ان کے علاوہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ، اداکار سنی دیول اور سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔

زیرو لائن پر سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے من موہن سنگھ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ راہداری کھلنے سے پاکستان بھارت تعلقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ نے کرتار پور راہداری پر پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرتارپور راہداری کھلنے پر سب ہی خوش ہیں کیونکہ 70 سال سے ہماری خواہش رہی ہے کہ کرتار پور راہداری کھولی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی شروعات ہے امید ہے کہ راہداری کھلنے سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے۔

کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی کرتارپور میں موجود ہیں جہاں انہوں نے ایمیگریشن اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔

کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر بابا گرونانک دیو جی کے 550ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاک- بھارت سرحد زیرو لائن پر سکھ یاتریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

سکھ یاتری آزادانہ اور پرامن ماحول میں خوش اسلوبی سے امیگریشن کا عمل مکمل کرنے کے بعد باحفاظت گوردوارہ دربار صاحب پہنچ گئے۔

وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق سکھ یاتریوں کو پاسپورٹ اور 20 ڈالر فیس کی ادائیگی سے استثنی حاصل ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے دُنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے وسیع پیمانے پر لنگر اور قیام کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے قبل وزیراعظم عمران خان نے خصوصی پیغام میں کہا کہ کرتارپور راہداری کاافتتاح علاقائی امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان کے پختہ عزم کامنہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے کی خوشحالی اور آنے والی نسلوں کاروشن مستقبل امن میں مضمرہے۔ عمران خان نے کہاکہ بابا گرونانک دیوجی کے 550ویں جنم دن کے موقع پر سکھ برادری کے لیے راہداری کے افتتاح کی اہمیت مسلمان اپنے مذہبی مقامات کے تقدس کے حوالے سے بخوبی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کرتارپور راہداری کا افتتاح اس حقیقت کا عکاس ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے لیے ہمارے دل ہمیشہ کھلے ہیں جس کا حکم ہمارے مذہب نے دیا اور جس کاتصوربابائے قوم نے پیش کیا تھا۔

وزیراعظم نے کہاکہ آج ہم محض سرحدہی نہیں بلکہ سکھ برادری کے لیے اپنے دلوں کو بھی کھول رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان کے اس شاندارجذبہ خیرسگالی سے باباگرونانک دیوجی اور سکھ برادری کے مذہبی جذبات کے لیے اس کے احترام کی عکاسی ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہاکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی اورپُرامن بقائے باہمی سے برصغیرکے لوگوں کے وسیع ترمفادات کے لئے کام کرنے کاموقع فراہم ہوگا. (منقول )

Leave a Reply

Close Menu