ابتداء ھے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو کل کائناتوں کا اکیلا مالک ہے۔ اور اربوں کھربوں دارود و سلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر اور آپ کی آل پر          

علماء کونسل پاکستان کے سربراہ مولانا طاہر اشرفی کی چیچہ وطنی آمد

علماء کونسل پاکستان کے سربراہ مولانا طاہر اشرفی کی چیچہ وطنی آمد

پاکستان علماءکونسل کے مرکزی چیئر مین طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان علماءکونسل یہ سمجھتی ہے کہ اس وقت ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے ۔
عالمی طاغوتی قوتیں پاکستان ،سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔
ایسے وقت میں سیاسی و مذہبی قیادت کو مل بیٹھ کر ملکی مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ ممبر ان ِپارلیمنٹ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرتے ہیں جو کہ انتہائی غیر مناسب ہے ہماری حکومت اور حزب اختلاف سے اپیل ہے کہ ملکی استحکام کی خاطر اپنے لہجوں میں نرم لائیں۔
احتساب بلا تفریق ہونا چاہیے ۔ریاست مدینہ میں انصاف بنیادی ریاستی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ انصاف لوگوں کو ملنا چاہیے نا کہ طاقتور انصاف کو خریدتا نظر آئے۔پاکستان میں عقید ہ ختم نبوت ﷺ،ناموس رسالت ﷺ اور آئین کی بنیادی دفعات سمیت مساجد اور مدارس کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ نواز شریف دوتہائی اکثریت ہونے کے باوجود عقیدہ ختم نبوت ﷺ کی شق میں ترمیم نہیں کروا سکا تھا۔ اللہ کے فضل و کرم سے اس ملک میں عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے قانون پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیچہ وطنی پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مر سکتا ہے لیکن اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ فرضی باتوں پر یقین کرنا ملکی سلامتی کے خلاف ہے۔ فلسطین اور کشمیر امت مسلماءکا مشترکہ مسئلہ ہے جس کا درد ہر مسلمان کے دل میں ہے۔
ماضی کی حکومت نے مذہبی جماعتوں پر مدارس کے ساتھ جو سلوک کیا موجودہ حکومت کی طرف سے کی گئی کاروائیاں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔
متحدہ علماءبورڈ پنجاب حکومت کی باڈی نے 100سے زائد کتب جن میں اسلامی اشعائرکی خلاف ورزی کی گئی تھی ان کو ضبط کیا گیا ہے۔ مہنگائی بہت بڑھ چکی ہے اور اس بارے میں حکومت کو سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت میڈیا کے مسائل بھی حل کرے۔
اسلامی نظریاتی کونسل بلا شبہ ایک بہت مضبوط ادارہ ہے لیکن اس کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں کرفیوکے دوران 108دن گزرنے کا عرصہ بہت طویل ہو چکا ہے۔ حکومت کو اب اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل اختیار کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
پاکستان کے علماءحکومت ،چیف آف آرمی سٹاف کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں افواج پاکستان کو یقین دلاتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ پر وہ جہاں بھی ہماری ڈیوٹی لگائیں گے ہم خون کے آخری قطرے تک قربانی دیں گے۔ اگر بارڈر پر کھڑے ہوئے تو فوج سے پہلے گولی ہم کھائیں گے۔
اس موقع پر مرکزی سالار پاکستان علماءکونسل قاری حفیظ اللہ ،عالم دین محسن شاہ سمیت علماءکرام اور کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Leave a Reply

Close Menu