ابتداء ھے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو کل کائناتوں کا اکیلا مالک ہے۔ اور اربوں کھربوں دارود و سلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر اور آپ کی آل پر          

کالم و تحریر

چوہدری عبدالرزاق

قدرت نے انسان کو اپنی بے پناہ نعمتوں سے نواز ا ہوا ہے جنگلات بھی ان میں سے ایک ہیں۔کرہ ارض پر ان سر سبز و شاداب وادیوں کے سبب انسانی زندگی جنت کا نمونہ پیش کر رہی ہے انسانوں کی بے شمار ضروریات ان ہی جنگلات سے پوری ہورہی ہیں یہی جنگلات ہماری غذائی ضروریات کے علاوہ ایندھن ،غلہ،پھل،پھول اور ادویات کے علاوہ فر نیچرکے لئے لکڑی بھی مہیاکرتے ہیں۔ چیچہ وطنی کویہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ملک کا دوسرا بڑا جنگل یہاں واقع ہے جو کہ 11500ایکڑ (45کلو میٹر) پر مشتمل ہے۔یہ قدرتی جنگل 1918 تک صرف 5 کلو میٹرتک محیط تھا لیکن دور برطانیہ 1923 ءمیں اس جنگل کی توسیع شروع کی گئی جو بالآخر موجودہ شکل اختیار کر گئی اور بلاشبہ یہ قومی اثاثہ ہے۔ صنعتی ترقی کے جاری اور روز افزوں ہونے کے سبب پوری دنیا میں جنگلات کا بڑی تیزی سے صفایا ہو رہا ہے چونکہ درخت ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھنے ،بارش کی آمد اور زمین کے کٹاو کے عمل کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں انسانی آبادی بڑھنے سے رہنے سہنے کی ضروریات بھی بڑھنے لگیں جس سے لکڑی کا استعمال بطور ایندھن اورفرنیچربھی بڑھ گیا اس لئے پوری دنیا نے قدرتی جنگلات کے کاٹے جانے کو بہت بڑا خطرہ کے طور پر محسو س کیا اور ساری دنیا میں جنگلات کے تحفظ کے لئے ایک زبردست مہم کا آغاز کیا۔ایک رپورٹ کے مطابق ترقی پزیر ممالک میں9 فیصد دیہی آبادی ایندھن کے طور پر لکڑی کا استعمال کرتی رہی ہے بجلی اور گیس کی وجہ سے ایندھن کے طور پر جلائی جانے والی لکڑی کا استعمال کم ہوا ہے یہ خوش آئند بات ہے ۔ اس کے باوجود درختوں کی کٹائی کا کام غیر قانونی طور پر جاری ہے، فیکٹریوں کے قیام اور شہری آبادی کو بسانے کے علاوہ عمارتی لکڑی اور دیگر ضروریات کے لئے استعمال ہونے والی لکڑی حاصل کرنے کے لئے اب بھی جنگلوں کو کاٹا جا رہا ہے۔ آمرانہ اور مارشل لا دور جہاں اور بہت ساری خرابیاں اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اسی طرح ضیا ءدور میں اس جنگل سے ٹمبر مافیااورمحکمہ جنگلات کی ملی بھگت سے شیشم ،کیکر سمیت دیگر لاکھوں روپے مالیت کے پرانے درخت کاٹ کر فروخت کردئیے گئے جس سے ملک کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا،اب جنگل میں صرف سنبل،سفیدے،نیم وغیرہ کے پودے ہی کاشت کئے جا رہے ہیں جو شیشم اور کیکر وغیرہ کی طرح فوائد نہیں دے رہے لیکن ماحول کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کررہے ہیں۔حکومتی سطح پر شجر کاری سال میں دو دفعہ کی جاتی ہے لیکن باقاعدہ پلاننگ کی جائے تو جنگلات کے رقبوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے ملکی معیشت میں اضافہ اور ماحول کو آلودگی سے بھی بچایا جاسکتا ہے لیکن زیادہ تر کارووائی کاغذی ہی ثابت ہوتی ہے۔درختوں کی کٹائی و چوری مافیا اور محکمہ جنگلات کے افسران و اہلکاران کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہے اس سلسلہ میں سیکرٹری جنگلات اور دیگر حکام کو زیادہ توجہ اور سیاست سے پاک کرنےکی ضرورت ہے ۔

نوٹ: وائس آف چیچہ وطنی اور اس کی پالیسی کا اس کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ای میل کردیجیے۔

voiceofchichawatni@gmail.com

Close Menu